Mensa Pakistan میں رکنیت کا معیار کسی منظور شدہ ذہانت کے ٹیسٹ میں بلند ترین 2 فیصد میں آنا ہے۔ اس کے دو طریقے ہیں: Mensa کا زیرِ نگرانی ٹیسٹ دینا، یا ماضی میں دیے گئے کسی قابلِ قبول ٹیسٹ کا نتیجہ پیش کرنا۔ تعلیم یا پیشے سے متعلق کوئی شرط نہیں ہے۔
جن لوگوں کے پاس باضابطہ ٹیسٹ کا نتیجہ پہلے سے موجود ہے، وہ اسی نتیجے سے درخواست دے سکتے ہیں۔ جنہیں اب ٹیسٹ دینا ہے، ان کے لیے داخلہ ٹیسٹ بنیادی راستہ ہے۔
داخلہ ٹیسٹ کے لیے Mensa Pakistan سے رابطہ
Mensa Pakistan کے ٹیسٹ کے لیے رابطہ info@mensa.org.pk ہے۔ اپنا شہر اور عمر بتانے پر آئندہ دستیاب ٹیسٹ کی تاریخ اور مقام کی معلومات دی جاتی ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں علاقائی نمائندے بھی موجود ہیں۔ Mensa Pakistan کی اہلیت کی معلومات دونوں طریقوں اور بلند ترین 2 فیصد کے معیار کی وضاحت کرتی ہیں۔
یونیورسٹیوں کے ساتھ مشترکہ پروگرام بھی ٹیسٹ دینے کا موقع بن سکتے ہیں۔ University of Central Punjab کے ساتھ جنوری 2025 کی شراکت میں سائنس اور انجینئرنگ کے ایک پروگرام میں Mensa ٹیسٹ شامل کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس لیے ٹیسٹ کے مواقع Mensa کے اپنے اعلانات کے ساتھ ایسے مشترکہ پروگراموں میں بھی مل سکتے ہیں۔
سابقہ نتیجہ موجود ہو تو نیا ٹیسٹ ضروری نہیں
کسی ماہرِ نفسیات یا منظور شدہ جانچ کے ادارے کی باضابطہ رپورٹ رکھنے والے افراد دستاویزات کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ رسمی ریکارڈ سے واضح ہونا چاہیے کہ نتیجہ Mensa کے لیے قابلِ قبول ذہانت کے ٹیسٹ میں بلند ترین 2 فیصد کے اندر ہے۔
اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ نئی ٹیسٹ نشست کا انتظار کیے بغیر درخواست دی جا سکتی ہے۔ اگر اہل نتیجہ پہلے سے موجود ہے تو صرف Mensa میں داخلے کے لیے کوئی دوسرا ذہانت کا ٹیسٹ دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں۔
نئی WAIS جانچ کروا کر رپورٹ بنوانا، سابقہ نتیجہ پیش کرنے سے مختلف انتخاب ہے۔ WAIS پر خرچ اس وقت مفید ہے جب کوئی مجموعی IQ کے ساتھ زبان کی سمجھ، استدلال، یادداشت اور پروسیسنگ کی رفتار میں اپنی قوتوں اور مشکلات کی ماہرانہ وضاحت چاہتا ہو۔